• مومنو! پڑھتے رہو درود
  • صَلّی اللّٰہُ عَلٰی حَبِیبِہ مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَسَلَّمَ
مومنو! پڑھتے رہو درود صَلّی اللّٰہُ عَلٰی حَبِیبِہ مُحَمَّدٍ وَّآلِہ وَسَلَّمَ
قارئین کے پسندیدہ
درود شریف بینک

سؤال و جواب

٢ مئی ٢٠٢٦

سوال: ماشاء اللہ بہت پیاری حدیث ہے میرے آقا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔لیکن یہاں بہت غور طلب بات ہے کہ یہ ایسا عمل ہے جو ہر وقت قبول ہے ۔۔اگر ہم اللہ کریم کی روشن کتاب میں درود شریف کے متعلق آیت پر غور کریں تو اس میں باری تعالیٰ فرما رہے ہیں۔۔میں اور میرے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔۔ تو جب ہم درود شریف پڑھتے ہیں تو اس کہ ترجمہ ہے اے اللہ درود بھیج محمد پر اور اُسکی آل پر۔۔۔اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں میں تو بھیج رہا ہوں آپ بھی بھیجو جب ہم پڑھتے ہیں تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کو ہی کہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ بھیجیں۔۔شاید میں اچھی طرح بات سمجھا سکا یا نہیں غور کیجئے گا۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا درود بھیجنا کہاں ہے ؟ ترجمہ کے حساب سے تو ہم اللہ تعالیٰ کو ہی معاذاللہ حکم دیے جا رہے ہیں۔۔۔برائے مہربانی میری رہنمائی فرما دیں میں سالوں سے یہ وظیفہ پڑھ رہا ہوں لیکن بغیر سمجھ کے۔ ( سوال منجانب : حافظ حامد)

عرض ہے کہ بیشک آیتِ کریمہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا بیان کردہ برحق ہے لیکن سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دراصل مفہوم کیا ہے؟ اگر ھم اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ کریم کے بارے میں قیاس کریں تو سراسر غلط ہے جیسا کہ شاید اللہ کریم بھی ہماری طرح درود پڑھ رہا ہے؟ جیسا کہ شاید کوئی نشست ہے جس میں اللہ اور فرشتے بیٹھ کر (معاذ اللہ) درود شریف پڑھ یا بھیج رہے ہیں؟ جیسا کہ شاید کوئی لفظ یا الفاظ ہیں جن کی اللہ اور فرشتے ادائیگی کر رہے ہیں؟ یہ تمام کی تمام سوچیں یکسر غلط ہیں کیوں کہ اللہ کریم ایسے تمام عوامل و حوائج سے بالکل پاک ہے یعنی اللہ کریم کے بارے میں سوچنا کہ جیسے ہم الفاظ ادا کرتے ہیں، جیسے ہم پڑھتے ہیں، جیسا کہ مخلوق کی طرح بیٹھنا وغیرہ اِن سب سے اللہ کریم مبرا اور پاک ہے۔ وہ ذاتِ کریم ہر حاجت و عمل سے پاک ، مبرا اور بالاتر ہے۔ وہ جسم سے پاک ہے ، ہماری سوچ میں سما نہیں سکتا ، وہ لامحدود ذات ہی کیا جو ہم جیسی کمزور مخلوق کے چھوٹے سے ذہن میں آ جائے۔ لہذا سب سے پہلے اِس خیال کو رَد کر دیں ایک مرتبہ بورے والا میں برلبِ نہر محفلِ میلاد منعقد تھی۔ حضرت علامہ پیر سیّد شمس الدین بخاری صاحب طال عمرہ میزبان کے گھر کھانا تناول فرما رہے تھے اور اِسی دوران مائک پر کسی نعت خوان نے شعر پڑھا جس کا مفہوم تھا کہ واحد درود شریف ایسا عمل ہے کہ اُس میں لاشریک بھی ہمارے ساتھ شریک ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تو جب قبلہ علامہ پیر سیّد شمس الدین بخاری صاحب تشریف لائے تو تقریر کے آغاز میں ہی آپ نے کافی سرزنش فرمائی کہ کسی عالمِ دین سے اشعار کی تصدیق کروا لیا کرو ۔۔۔ اوّل کسی اشارے کنائے میں بھی اللہ کریم کی ہمسری کا دعویٰ شرک ہے اور دوم یہ بتاؤ کہ تمہیں کیسے پتہ کہ اللہ کریم اپنے حبیب ﷺ پر درود شریف کس انداز میں بھیج رہا ہے؟ کیا تیرا درود پڑھنا یا بھیجنا اور اللہ کریم کا درود بھیجنا دونوں ایک جیسے عمل ہو سکتے ہیں؟ یہ سوچ شرکیہ اور کفریہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لفظ الفاظ کی تخلیق اور بناوٹ محض کوئی بات ہمیں سمجھانے کے لیے ہے۔ بعض اوقات حقیقت کوسوں دور ہو سکتی ہے۔ اللہ کریم اپنی شان کے مطابق اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجتا ہے۔ اب اُس کا بھیجنا کیسا ہے؟ وہ خالق و مالکِ عظیم کس طرح کر رہا ہے؟ اِس سے آگے سوچنا وہی مقام ھے جہاں پر فرشتے کے پَر بھی جل جاتے ہیں اور وہ بھی روک دیئے جاتے ہیں۔ میں اور آپ تو کسی حساب کتاب میں ہی نہیں۔ ھاں مگر ہم بطورِ بشر باز بھی نہیں آتے تو پھر احسن سوچ اپنانے کی اجازت ہو سکتی ہے یعنی اللہ کریم جو اپنے حبیب ﷺ پر رحمت فرماتا ہے ، جو اپنے حبیب ﷺ کی قرآن میں تعریف فرمائی ہے ، جو اپنے حبیب ﷺ کے روضہء اقدس پر فرشتے بھیجتا ہے ، جو اپنے حبیب ﷺ کا ذکر مسلسل بلند فرما رہا ہے (بحوالہ قرآن کریم) تو یہ سب کچھ اللہ کریم کے اپنے محبوب نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے انداز میں سے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ کریم اپنے فرمان کے مطابق ہمارے پیارے نبی ﷺ پر درود بھیج رہا ہے۔ یقینی طریقہ و انداز کا ہمیں نہیں پتہ لیکن یہ لازم ہے کہ ہمارے رب کا ہر فرمان برحق ہے۔ اب دوسری طرف آئیں کہ ہم مخلوق بھی تو واپس اللہ تعالیٰ سے ہی عرض کیے جاتے ہیں کہ اے اللہ درود بھیج ۔۔۔۔۔۔۔ (آپ نے لکھا (معاذ اللہ) ہم حکم دیتے ہیں ، ایسے سوچنا نہیں چاہیے ، الفاظ تو مختلف زبانوں کے محتاج ہوتے ہیں کیوں حرف و لفظ محدود ہیں لیکن ہماری سوچ بہتر ہونی چاہیے۔ ہم تو اپنے کسی بڑے کو حکم نہیں دے سکتے، چہ جائیکہ ۔۔۔۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم عرض کرتے ہیں۔۔۔۔) دراصل یہاں ہم عاجز و کمزور مخلوق کی کمال رعایت کی گئی ہے۔ خود سوچیں کہ اللہ کریم نے اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجنے کا فرمان خود عطا کیا ہے اور پھر ہمیں درود شریف کی صورت میں ایک دعا عطا فرمائی کہ ہم بھی اللہ کریم سے عرض کریں کہ وہ اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجے ۔۔۔۔۔ اور وہی عمل جس کے بارے میں خالقِ کائنات نے خود ارشاد فرمایا کہ اللہ کریم اور اُس کے فرشتے پہلے ہی بھیج رہے ہیں ۔۔۔۔۔ چنانچہ اِسی لیے مفسرین و محدثین نے کہا کہ یہ مخلوق کا ایک ایسا ذکر/دعا/عمل ہے کہ جس کی قبولیت کی سند ہمیں کرنے سے بھی پہلے مل رہی ہے ۔۔۔۔ پہلے ہی مقبول ہے ۔۔۔۔۔ کوئی دِکھا دِکھا کر کرے تو بھی قبول ہے ۔۔۔ ہر حال میں قبول ہے ۔۔۔۔ اِسے اپنے کریم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت سمجھیں کہ اُس نے ہمیں یہ نعمت عطا کر دی ۔۔۔۔ جو پہلے ہی ہو رہا ہے ، اُسی کے حوالے سے ہمیں تاکید کی گئی کہ جاؤ اپنے رب سے عرض کرو ۔۔۔۔۔ باری تعالیٰ ، میرے خالق و مالک ، مجھے بھی رحمت میں لے لیجئے اور میری بھی عرض ہے کہ اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجئے ۔۔۔۔۔ کیا بات ہے! آپ بس اِس حقیقت کا مزہ لیجیے۔ باقی ہمارا پروردگار کیسے کرتا ہے! یہ اُس پر چھوڑ دیجیے ۔۔۔ وہ احسن الخالقین اور کارسازِ کریم ہے ۔۔۔ وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے ۔۔۔۔ اِس ایڈوانس یعنی قبل از عمل قبولیت کا لطف اُٹھائیے ۔۔۔۔ اپنے مسئلے حل کروائیے ۔۔۔ اور جھوم جھوم کر درود شریف پڑھیے ۔۔۔۔۔ اِسی لیے حضرت صاحب کرماں والےؒ نے بھی ارشاد فرمایا: درود شریف ہی اِسمِ اعظم ہے
مزید پڑھیے

٢ دسمبر ٢٠٢٢

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں، کہ آج کل ایک نعرہ لگایا جاتا ہے: ”ہر صحابیء نبی جنتی جنتی“حالانکہ ایک جنگ کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کی شہادت کی خبر دی گئی، تو آپ نے فرمایا: ”الی النار“یعنی وہ تو دوزخی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب اس طر ح کی حدیث پاک موجود ہے، تو پھر یہ نعرہ: ”ہر صحابی نبی جنتی جنتی“ لگانا کیسے درست ہے؟

صحابہء کرام علیہم الرضوان کی شان و عظمت بہت زیادہ ہے اور ان کے فضائل سے قرآن و حدیث مالامال ہیں۔ کئی آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے اُن کا جنتی ہونا ثابت ہے، لہٰذا یہ نعرہ لگانا”ہر صحابی نبی جنتی جنتی“ بالکل درست اورقرآن و حدیث کے عین مطابق ہے۔سوال میں جس شخص کا تذکرہ کیاگیا ہے،یہ ایک منافق اعتقادی تھا، جو مسلمان بن کر چھپا ہوا تھا،جس کے نفاق کو ظاہر کرتے ہوئے اس موقع پر رسول اکرم ﷺ  نے اس کے لیے وعید بیان کرتے ہوئے اس کے انجام کو بیان فرمایا۔
   اللہ عزوجل صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بیان کرتے ہوئے قرآن مجید میں فرماتا ہے:ترجمہ:”تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا۔ وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکااوراللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔“ (پارہ27، سورہ حدید، آیت10)
   اس آیتِ کریمہ کے تحت امام اہلسنت امام الہدی امام ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:”ای وعد اللہ لکلا الفریقین من انفق قبل الفتح وبعدہ الجنۃ والثواب الحسن“ یعنی اللہ تعالیٰ  نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دونوں گروہوں یعنی جنہوں نے فتح مکہ سے قبل اور بعد خرچ کیا، ان سے جنت اور اچھے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے۔ (تفسیر ماتریدی، جلد9، صفحہ519، دار الکتب العلمیۃ،بیروت)
   اس آیتِ کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے تفسیر سمرقندی میں ہے: ”معناہ وعد اللہ کلا الحسنی یعنی الجنۃ“ یعنی آیت کریمہ کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔(تفسیر سمرقندی، جلد3، صفحہ382،دار الفکر،  بیروت)
   اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیر ارشاد العقل السلیم میں ہے: ”ای المثوبۃ الحسنی وھی الجنۃ“ یعنی (اللہ عزوجل نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ)اچھے ثواب یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔(ارشاد العقل السلیم، جلد5، صفحہ274، ریاض)
   اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر کبیر میں ہے: ”وفیہ مسائل: المسئلہ الاولیٰ: ای وکل واحد من الفریقین وعداللہ الحسنی ای المثوبۃ الحسنی وھی الجنۃ مع تفاوت الدرجات“ یعنی اس آیت کریمہ میں کئی مسائل بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دونوں گروہوں کے ساتھ اللہ عزوجل نے عمدہ اجر یعنی جنت کا وعدہ فرمایا ہے ہاں درجات ضرور مختلف ہوں گے۔(تفسیر کبیر، جلد29، صفحہ220، بیروت)
   یہی آیت کریمہ لکھنے کے بعد صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”تو جب اس نے ان کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنت بے عذاب وکرامت و ثواب کا وعدہ فرما چکے، تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ ان کی کسی بات پر طعن کرے۔“(بھار شریعت، جلد1، حصہ1، صفحہ 255، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
   بہار شریعت میں ہے: ”تمام صحابہ کر ام اعلیٰ و ادنی (اور ان میں ادنی کوئی نہیں) سب جنتی ہیں۔ وہ جہنم کی بھنک نہ سنیں گیاور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔یہ سب مضمون قرآن عظیم کا ارشاد ہے۔“(بہار شریعت، جلد1، حصہ1، صفحہ254، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
   صحابہ کرام علیہم الرضوان کے فضائل میں بے شمار احادیث مبارکہ بھی موجود ہیں۔    چنانچہ ترمذی شریف میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اکرم ﷺ سے سُنا کہ جس مسلمان نے مجھے دیکھا، اس کو آگ نہیں چھوئے گی۔(سنن الترمذی،جلد2، صفحہ705، حدیث3826، لاھور)
   اس حدیث پاک کے تحت فیض القدیر میں ہے: ”(لا تمس النار) ای نار جھنم“ یعنی آگ کے نہ چھونے سے مراد یہ ہے کہ انہیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔(فیض القدیر، جلد6، صفحہ547، تحت الحدیث9867، بیروت)
   اس حدیث پاک کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے: ”یعنی جس نے بحالت ِ ایمان مجھے دیکھا اور ایمان پر ہی اُس کا خاتمہ ہوا،وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا۔۔ خیال رہے کہ سارے صحابہ جنتی ہیں،مگر عشرہ مبشرہ وہی ہیں، جنہیں ایک حدیث نے جمع فرمایا، ورنہ سارے صحابہ جنتی ہیں۔“(مراۃ المناجیح، جلد8، صفحہ287، مطبوعہ لاہور)
   رہی بات اس حدیث ِ پاک کی جس کے متعلق سوال کیا گیاہے، تو بلاشبہ اس طرح کی حدیث پاک موجود ہے،جس میں ایک شخص کے انتقال کے وقت رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا: ”الی النار“ یعنی وہ تو دوزخی ہے۔ اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے محدثین کرام نے بیان فرمایا کہ جس شخص کے متعلق رسول اللہ ﷺ  نے دوزخی ہونے کا فرمایا، وہ صحابی نہیں، بلکہ منافق تھا۔
بخاری شریف میں ہے: ”حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم غزوۂ خیبر کے موقع پر رسول اللہﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضر تھے،تو آپ نے ایک شخص کے متعلق جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا، فرمایا کہ یہ دوزخی ہے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی، تو اس شخص نے بہت زور و شور سے جنگ کی۔ اس دوران اسے زخم پہنچا، تو رسول اللہ ﷺ  کی بارگاہِ اقدس میں عرض کیا گیا کہ جس شخص کے دوزخی ہونے کا فرمایا تھا، اس نے تو آج بہت شدید قسم کی لڑائی کی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ دوزخی ہے۔قریب تھا کہ بعض لوگ یہ سن کر شک میں پڑ جاتے کہ بتایا گیا وہ نہیں مرا، بلکہ اسے سخت زخم پہنچے تھے، جب رات ہوئی، تو وہ صبر نہ کر سکا اور اپنے آپ کو قتل کر دیا۔ اس کی خبر نبی پاک ﷺکو دی گئی تو آپ نے فرمایا: اللہ اکبر! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، پھر حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور اللہ عزوجل اپنے اس دین کی مدد کسی فاجر شخص سے بھی کروا لیتا ہے۔(الصحیح للبخاری، صفحہ413، حدیث3062، مطبوعہ ریاض)
   اس حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: ”اسمہ قزمان وھو معدود فی المنافقین“ یعنی اس شخص کا نام قزمان تھا اور اس کا شمار منافقین میں ہوتا تھا۔(عمدۃ القاری، جلد14، تحت الحدیث2898، صفحہ253، بیروت)
   اس حدیث پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: ”قولہ الا نفس مسلمۃ یدل علی ان الرجل قد ارتاب وشک حین اصابتہ الجراحۃ“ یعنی حدیث پاک کے یہ الفاظ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوگا“اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جب اس شخص کو زخم پہنچا تھا، تو یہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق شک و شبہ میں مبتلا ہوگیا تھا۔(عمدۃ القاری، جلد14، صفحہ426، بیروت)
   اس حدیث ِ پاک کے تحت ارشاد الساری میں ہے: ”اسمہ قزمان الظفری وھو معدود فی جملۃ المنافقین“ یعنی اس شخص کا نام قزمان ظفری تھا اور وہ منافقین کے گروہ میں شامل تھا۔(ارشاد الساری، جلد5، صفحہ176، مصر)
   اسی طرح کی حدیث پاک کے تحت ارشاد الساری میں مزید ایک مقام پر ہے: ”لنفاقہ باطنا“ یعنی رسول اللہ ﷺ نے اس کے باطنی طور پر منافق ہونے کی وجہ سے دوزخی فرمایا تھا۔ (ارشاد الساری، جلد6، صفحہ362، مصر)
   اس حدیث ِپاک کے تحت شرح الزرقانی میں ہے: ”قال المھلب ھذا الرجل ممن اعلمنا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم انہ نفذ علیہ الوعید من النفاق“ یعنی مہلب کہتے ہیں: یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جن کے متعلق رسول پاک ﷺ نے ہمیں بتا دیا کہ ان کے نفاق کی وجہ سے ان پر یہ وعید نافذ ہوگئی۔(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، جلد3، صفحہ262، بیروت)
   اس حدیث پاک کے تحت نزہۃ القاری میں ہے: ”ابتدا میں جو فرمایا: ”لرجل یدعی الاسلام“اور اخیر میں جو منادی کرائی گئی، اس سے بظاہر یہ متبادر ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں مسلمان نہ تھا۔(اس کے بعد مفتی صاحب علیہ الرحمۃ نے ثابت کیا کہ لفظ فاجر، کافر کے لیے بھی بولا جاتا ہے، لہذا)اس حدیث میں بھی فاجر سے اگر کافر مراد لیاجائے، تو کوئی استبعاد یعنی امکان سے خارج نہیں۔“(ملتقط از نزھۃ القاری، جلد4، صفحہ173، فرید بک سٹال، لاہور)  اس حدیث پاک کے تحت تفہیم البخاری میں ہے: ”سید عالم ﷺ کا ارشاد کہ”جنت میں مسلمان ہی داخل ہوں گے“سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جوان مرد جب شدید زخمی ہوگیا تھا، تو اس نے آپ ﷺ کے صدق میں شک کرلیا تھا اور سید عالم ﷺ اس کے باطنی کفر کو جانتے تھے۔“(تفہیم البخاری، جلد4، صفحہ442، مطبوعہ فیصل آباد)

مزید پڑھیے

١٣ نومبر ٢٠٢٢

عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ درود شریف کو تسبیح پر گن کر پڑھتے ہیں۔ براہ مہربانی درود شریف کو گن کر پڑھنے کی شرعی حیثیت سے آگاہ فرمائیں۔

درود شریف گن کر پڑھنا بھی درست ہے اور بغیر گن کر کثرت سے درود شریف پڑھنا بھی درست ہے۔

حدیث پاک میں آتا ہے :

من صلّی علیَّ فی يوم الجمعة وليلة الجمعة مأةَ مرةٍ قضی الله له مأة حاجة سبعين من حوائج الاخرة و ثلاثين من حوائج الدنيا.

(بيهقی شعيب الايمان، 3 : 111 رقم : 3035)

جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اسکی سو حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے 70 (ستر) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (30) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں۔

عن ابن مسعود رضی الله عنه قال قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم اِنَّ اولیٰ الناس لی يوم القيامة اکثرهم علی صلوٰة.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو۔

تو ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ دونوں طریقے جائز ہیں۔ جہاں پر تعداد بیان کی گئی ہے وہاں پر تعداد کے ساتھ پڑھنا چاہیے اور جہاں پر تعداد کے بغیر ذکر ہے وہاں پر ویسے کثرت کے ساتھ پڑھنا چاہیے، کوئی پابندی نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی شیخ کامل کسی مرید کے لیے وظیفہ یا درود شریف تعداد کے ساتھ بتائیں تو پھر اس پر عمل کرنا چاہیے تاکہ برکت حاصل ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

 

مزید پڑھیے

تازہ ترین تحاریر و مضامین

درود شریف کی برکت سے عید سج گئی

درود شریف کی برکت سے عید سج گئی

ایک بزرگ حضرت شیخ ابوالحسن بن حارث لیثی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ پابندِ شریعت ، متبع سنت اور درود و سلام کی بہت زیادہ کثرت کرتے تھے۔ فرماتے ہیں مجھ پر گردش کے دن آگئے۔ فقرو تنگدستی یہاں تک بڑھی کہ فاقہ کی نوبت آگئی۔ اسی عالم فاقہ مستی میں عید کی رات آگئی۔ میں بے حد پریشان تھا کہ صبح عید کا دن ہے، بچوں کیلئے نہ کوئی نئے کپڑے ہیں اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ ابھی رات کی چند گھڑیاں گزری ہوں گی کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ہاتھوں میں قندیلیں اٹھائے ہوئے کچھ لوگ دروازہ پر کھڑے ہیں، میں بے حد پریشان تھا کہ نہ جانے اس وقت یہ لوگ کیوں آئے ہیں کہ ان میں سے ایک خوش پوش شخص جو اس علاقے کا رئیس تھا ، آگے بڑھا اور اس نے کہا ، میں ابھی ابھی سورہا تھا کہ الحمدللہ میری قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ شہنشاہ کونین ﷺ میرے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں کہ ’’ابوالحسن اور اس کے بچے بڑی تنگدستی اور فقروفاقہ کے دن گزار رہے ہیں، تجھے اللہ عزوجل نے بہت کچھ دے رکھا ہے، جاؤ اور ان کی خدمت کرو۔ اس کے بچوں کیلئے کپڑے بھی ساتھ لے لو اور کچھ خرچ بھی دے آنا کہ وہ اچھے طریقے سے عید کرسکیں اور خوش ہوجائیں‘‘ یہ کچھ سامان عید کے لیے قبول فرمائیں اور میں درزی کو بھی ساتھ لایا ہوں آپ بچوں کو بلائیں تاکہ ان کے لباس کا ماپ لے کر ان کے کپڑے تیار کردئیے جائیں۔ پھر اس رئیس نےدرزیوں کو حکم دیا کہ پہلے بچوں کے کپڑے تیار کریں اور بعد میں بڑوں کے۔ لہٰذا صبح ہونے سے پہلے سب کچھ تیار ہوگیا اور صبح گھر والوں نے خوشی خوشی عید منائی۔ (سعادۃ الدارین)

مزید پڑھیے
درود شریف نہ پڑھنے والا خیر سے محروم ہے

درود شریف نہ پڑھنے والا خیر سے محروم ہے

علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام کسی کے سامنے لیا جائے تو کم از کم ایک مرتبہ درود پڑھنا اس شخص پر واجب ہے اور اس کی کتنی فضیلت ہے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے: ’’قیامت کے روز میرے ساتھ رہنے کا مستحق سب سے زیادہ وہ شخص ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجے گا۔‘‘ (ترمذی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہو جائے، بھلا اس سے زیادہ خوش قسمتی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :’’جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے، ملائکہ اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ) فرشتے اللہ کی مخلوق میں سے سب سے نیک اور پاک باز مخلوق ہیں اور اگر وہ کسی کیلئے رحمت و بخشش کی دعا کریں تو یقیناً اس شخص کے حق میں قبول ہو گی۔ ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ ’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ درود بھیجتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ) فرشتوں کی دعائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب قیامت میں حاصل ہو جانا کیا کم بڑی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس شخص پر دس رحمتیں ایک درود شریف کے بدلے میں بھیجتا ہے اور اللہ کی رحمت حاصل ہو جائے تو یہ بڑے شرف کی بات ہے۔ لیکن ان تمام فضائل و مناقب کے بعد بھی اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وقت نہ سہی اس وقت بھی درود نہ پڑھے جب آپؐ کا نام نامی لیا جائے تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟ چنانچہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بخیل‘‘ ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘ (ترمذی) درود شریف پڑھنا باعث فضلیت و رحمت ہے۔ جو شخص دن میںکم از کم تین سو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے وہ شخص کثرت سے درود پڑھنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ درود شریف کی سنت درود ابراہیمی پڑھنے سے بھی ادا ہو جاتی ہے اور اگر مختصراً صرف صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے تو بھی درود ادا ہو جائے گا لہٰذا درود پڑھنے میں بخل سے کام نہ لیا جائے بلکہ جتنا ہو سکے درود پڑھیں ۔یہ ہم پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے ، جو کہ شافع محشر بھی ہیں اور رحمۃ للعالمین بھی۔ ساقی کوثر بھی ہیں اور اپنی امت کو میدانِ محشر میں نہ بھولنے والے بھی۔ جس وقت ہر ایک ’’نفسی، نفسی‘‘ پکارتا ہو گا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ’’امتی، امتی‘‘ پکارتے ہوں گے۔

مزید پڑھیے
کتاب دلائل الخیرات کیسے لکھی گئی!

کتاب دلائل الخیرات کیسے لکھی گئی!

درود شریف کی برکت سے ایک معصوم بچی سے ایک کرامت ظاہر ہوئی۔ کتاب دلائل الخیرات کے مصنف ایک بار اتفاقاً ایک گاؤں میں تشریف لے گئے۔ نماز ظہر کا وقت اخیر ہوچکا تھا اور پانی موجود نہ تھا۔ آپ کے ساتھ کچھ مریدین اور خلفاء بھی تھے۔ تلاش و جستجو کے بعد آپ کو ایک کنواں نظر آیا، لیکن ڈول اور رسی نہیں تھی۔ حضرت شیخ صاحب موصوف کنویں کے چاروں چکر لگاتے اور سخت پریشان پھرتے رہے۔ لیکن اس دشواری کا حل نظر نہ آیا۔ اتفاقاً سامنے ایک مکان سے آٹھ یا نو سال کی ایک لڑکی بھی یہ ماجرا دیکھ رہی تھی۔ اس بچی نے حضرت شیخ صاحب سے کہا: اے شیخ آپ کے اس پریشانی کا باعث کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹی میں محمد بن سلیمان جزولی ہوں۔ ظہر کا وقت تنگ ہوچکا ہے۔ وضو کے لئے پانی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اس لئے پریشان ہوں تم ہی کوئی بندوبست کرو، تاکہ ہم وضو کر کے نماز ادا کریں۔ اس لڑکی نے جواب دیا کہ آپ اتنے بڑے مشہور معروف بزرگ ہیں اور ایک معمولی سا کام بھی انجام نہیں دے سکتے اور یہ کہہ کر لڑکی اپنے گھر سے باہر آئی اور آکر کنویں میں اپنا لعاب دہن یعنی منہ کا لعاب ڈال دیا۔ اس نے لعاب دہن ڈالتے ہی کنواں جوش مارنے لگا اور پانی باہر بہنا شروع ہوگیا۔ سب لوگوں نے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ حضرت شیخ صاحب نماز سے فارغ ہونے کے بعد بڑے ادب واحترام سے اس لڑکی کے مکان پر تشریف لے گئے اور دستک دی، جب وہ بچی باہر آئی تو حضرت نے اس سے فرمایا: تمہیں اس خدا کی قسم جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور صراط مستقیم دکھایا ہے، بتادو کہ تم یہ مقام و مرتبہ کیسے حاصل کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ درحقیقت مجھے یہ مرتبہ اور عالی مقام حق تعالیٰ نے فلاں درودشریف پڑھنے پر عطا فرمایا اور حاصل ہوا ہے۔ جس کا ہمیشہ شوق و محبت سے ورد کرتی رہتی ہوں۔ پھر حضرت شیخ صاحب نے اس بچی سے وہ درود شریف سیکھا اور اس سے اس کی اجازت حاصل کی۔ اس کی اجازت کے بعد شیخ صاحب کے دل میں انتہائی شوق پیدا ہوا کہ ایک ایسی کتاب تحریر کی جائے جس میں تقریباً تمام دورد شریف جمع ہوں اور وہ درود شریف بھی اس کتاب میں تحریر کیا جائے جو اس معصوم لڑکی سے حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے یہ کتاب ’’دلائل الخیرات‘‘‘ تحریر فرمائی اور حدیث مبارکہ میں جو درود شریف بھی مروی تھے، اس میں نقل فرمائے اور وہ دورد شریف بھی اس میں شامل کیا۔ پھر اس کتاب کو دلائل الخیرات کے نام سے موسوم کیا۔ وہ دورد شریف یہ ہے۔ اللھم علی سیدنا محمد و علی آل سیدنا محمد صلوٰۃ دائمۃ مقبولۃ تؤدی بھا عنا حقہ العظیم ترجمہ: الٰہی درود بھیج سردار حضرت محمدؐ پر اور ہمارے سردار محمدؐ کی آل پر ایسا درود کہ ہمیشہ رہے اور مقبول ہو کہ ادا ہو ساتھ اس کے ہم سے حق ان کا بڑا۔

مزید پڑھیے

ابوالحسندرودوسلامعیدسعادۃالدارین

سوال پوچھئے!

براہ مہربانی سوال مختصر اور واضح درج کریں۔ جواب حاصل کرنے کے لیے فارم پُر کریں۔