سوال: ماشاء اللہ بہت پیاری حدیث ہے میرے آقا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔لیکن یہاں بہت غور طلب بات ہے کہ یہ ایسا عمل ہے جو ہر وقت قبول ہے ۔۔اگر ہم اللہ کریم کی روشن کتاب میں درود شریف کے متعلق آیت پر غور کریں تو اس میں باری تعالیٰ فرما رہے ہیں۔۔میں اور میرے فرشتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔۔ تو جب ہم درود شریف پڑھتے ہیں تو اس کہ ترجمہ ہے اے اللہ درود بھیج محمد پر اور اُسکی آل پر۔۔۔اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں میں تو بھیج رہا ہوں آپ بھی بھیجو جب ہم پڑھتے ہیں تو پھر ہم اللہ تعالیٰ کو ہی کہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ بھیجیں۔۔شاید میں اچھی طرح بات سمجھا سکا یا نہیں غور کیجئے گا۔۔۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا درود بھیجنا کہاں ہے ؟ ترجمہ کے حساب سے تو ہم اللہ تعالیٰ کو ہی معاذاللہ حکم دیے جا رہے ہیں۔۔۔برائے مہربانی میری رہنمائی فرما دیں میں سالوں سے یہ وظیفہ پڑھ رہا ہوں لیکن بغیر سمجھ کے۔
( سوال منجانب : حافظ حامد)
عرض ہے کہ بیشک آیتِ کریمہ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا بیان کردہ برحق ہے لیکن سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دراصل مفہوم کیا ہے؟
اگر ھم اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ کریم کے بارے میں قیاس کریں تو سراسر غلط ہے
جیسا کہ شاید اللہ کریم بھی ہماری طرح درود پڑھ رہا ہے؟
جیسا کہ شاید کوئی نشست ہے جس میں اللہ اور فرشتے بیٹھ کر (معاذ اللہ) درود شریف پڑھ یا بھیج رہے ہیں؟
جیسا کہ شاید کوئی لفظ یا الفاظ ہیں جن کی اللہ اور فرشتے ادائیگی کر رہے ہیں؟
یہ تمام کی تمام سوچیں یکسر غلط ہیں کیوں کہ اللہ کریم ایسے تمام عوامل و حوائج سے بالکل پاک ہے یعنی اللہ کریم کے بارے میں سوچنا کہ جیسے ہم الفاظ ادا کرتے ہیں، جیسے ہم پڑھتے ہیں، جیسا کہ مخلوق کی طرح بیٹھنا وغیرہ اِن سب سے اللہ کریم مبرا اور پاک ہے۔ وہ ذاتِ کریم ہر حاجت و عمل سے پاک ، مبرا اور بالاتر ہے۔ وہ جسم سے پاک ہے ، ہماری سوچ میں سما نہیں سکتا ، وہ لامحدود ذات ہی کیا جو ہم جیسی کمزور مخلوق کے چھوٹے سے ذہن میں آ جائے۔ لہذا سب سے پہلے اِس خیال کو رَد کر دیں
ایک مرتبہ بورے والا میں برلبِ نہر محفلِ میلاد منعقد تھی۔ حضرت علامہ پیر سیّد شمس الدین بخاری صاحب طال عمرہ میزبان کے گھر کھانا تناول فرما رہے تھے اور اِسی دوران مائک پر کسی نعت خوان نے شعر پڑھا جس کا مفہوم تھا کہ واحد درود شریف ایسا عمل ہے کہ اُس میں لاشریک بھی ہمارے ساتھ شریک ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تو جب قبلہ علامہ پیر سیّد شمس الدین بخاری صاحب تشریف لائے تو تقریر کے آغاز میں ہی آپ نے کافی سرزنش فرمائی کہ کسی عالمِ دین سے اشعار کی تصدیق کروا لیا کرو ۔۔۔ اوّل کسی اشارے کنائے میں بھی اللہ کریم کی ہمسری کا دعویٰ شرک ہے اور دوم یہ بتاؤ کہ تمہیں کیسے پتہ کہ اللہ کریم اپنے حبیب ﷺ پر درود شریف کس انداز میں بھیج رہا ہے؟ کیا تیرا درود پڑھنا یا بھیجنا اور اللہ کریم کا درود بھیجنا دونوں ایک جیسے عمل ہو سکتے ہیں؟ یہ سوچ شرکیہ اور کفریہ ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ لفظ الفاظ کی تخلیق اور بناوٹ محض کوئی بات ہمیں سمجھانے کے لیے ہے۔ بعض اوقات حقیقت کوسوں دور ہو سکتی ہے۔ اللہ کریم اپنی شان کے مطابق اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجتا ہے۔ اب اُس کا بھیجنا کیسا ہے؟ وہ خالق و مالکِ عظیم کس طرح کر رہا ہے؟ اِس سے آگے سوچنا وہی مقام ھے جہاں پر فرشتے کے پَر بھی جل جاتے ہیں اور وہ بھی روک دیئے جاتے ہیں۔ میں اور آپ تو کسی حساب کتاب میں ہی نہیں۔ ھاں مگر ہم بطورِ بشر باز بھی نہیں آتے تو پھر احسن سوچ اپنانے کی اجازت ہو سکتی ہے یعنی اللہ کریم جو اپنے حبیب ﷺ پر رحمت فرماتا ہے ، جو اپنے حبیب ﷺ کی قرآن میں تعریف فرمائی ہے ، جو اپنے حبیب ﷺ کے روضہء اقدس پر فرشتے بھیجتا ہے ، جو اپنے حبیب ﷺ کا ذکر مسلسل بلند فرما رہا ہے (بحوالہ قرآن کریم) تو یہ سب کچھ اللہ کریم کے اپنے محبوب نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے انداز میں سے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ کریم اپنے فرمان کے مطابق ہمارے پیارے نبی ﷺ پر درود بھیج رہا ہے۔ یقینی طریقہ و انداز کا ہمیں نہیں پتہ لیکن یہ لازم ہے کہ ہمارے رب کا ہر فرمان برحق ہے۔
اب دوسری طرف آئیں کہ ہم مخلوق بھی تو واپس اللہ تعالیٰ سے ہی عرض کیے جاتے ہیں کہ اے اللہ درود بھیج ۔۔۔۔۔۔۔ (آپ نے لکھا (معاذ اللہ) ہم حکم دیتے ہیں ، ایسے سوچنا نہیں چاہیے ، الفاظ تو مختلف زبانوں کے محتاج ہوتے ہیں کیوں حرف و لفظ محدود ہیں لیکن ہماری سوچ بہتر ہونی چاہیے۔ ہم تو اپنے کسی بڑے کو حکم نہیں دے سکتے، چہ جائیکہ ۔۔۔۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم عرض کرتے ہیں۔۔۔۔)
دراصل یہاں ہم عاجز و کمزور مخلوق کی کمال رعایت کی گئی ہے۔ خود سوچیں کہ اللہ کریم نے اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجنے کا فرمان خود عطا کیا ہے اور پھر ہمیں درود شریف کی صورت میں ایک دعا عطا فرمائی کہ ہم بھی اللہ کریم سے عرض کریں کہ وہ اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجے ۔۔۔۔۔ اور وہی عمل جس کے بارے میں خالقِ کائنات نے خود ارشاد فرمایا کہ اللہ کریم اور اُس کے فرشتے پہلے ہی بھیج رہے ہیں ۔۔۔۔۔ چنانچہ اِسی لیے مفسرین و محدثین نے کہا کہ یہ مخلوق کا ایک ایسا ذکر/دعا/عمل ہے کہ جس کی قبولیت کی سند ہمیں کرنے سے بھی پہلے مل رہی ہے ۔۔۔۔ پہلے ہی مقبول ہے ۔۔۔۔۔ کوئی دِکھا دِکھا کر کرے تو بھی قبول ہے ۔۔۔ ہر حال میں قبول ہے ۔۔۔۔ اِسے اپنے کریم اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت سمجھیں کہ اُس نے ہمیں یہ نعمت عطا کر دی ۔۔۔۔ جو پہلے ہی ہو رہا ہے ، اُسی کے حوالے سے ہمیں تاکید کی گئی کہ جاؤ اپنے رب سے عرض کرو ۔۔۔۔۔ باری تعالیٰ ، میرے خالق و مالک ، مجھے بھی رحمت میں لے لیجئے اور میری بھی عرض ہے کہ اپنے حبیب ﷺ پر درود بھیجئے ۔۔۔۔۔ کیا بات ہے! آپ بس اِس حقیقت کا مزہ لیجیے۔ باقی ہمارا پروردگار کیسے کرتا ہے! یہ اُس پر چھوڑ دیجیے ۔۔۔ وہ احسن الخالقین اور کارسازِ کریم ہے ۔۔۔ وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے ۔۔۔۔ اِس ایڈوانس یعنی قبل از عمل قبولیت کا لطف اُٹھائیے ۔۔۔۔ اپنے مسئلے حل کروائیے ۔۔۔ اور جھوم جھوم کر درود شریف پڑھیے ۔۔۔۔۔ اِسی لیے حضرت صاحب کرماں والےؒ نے بھی ارشاد فرمایا:
درود شریف ہی اِسمِ اعظم ہے